ماجد صدیقی ۔۔۔ گھُٹن کی آنچ میں جب سے جلا ہے

گھُٹن کی آنچ میں جب سے جلا ہے
بدن ، پیہم اُدھڑتا جا رہا ہے

نگاہِ نا رسا تک پر کھُلا ہے
ہمارا درد ، پیوندِ قبا ہے

پہن لے دام ، لقمے کی ہوس میں
پرندہ عاقبت کب دیکھتا ہے

اثر ناؤ پہ جتلانے کو اپنا
سمندر ، ہم پہ موجیں تانتا ہے

بھنویں جس کی ، کمانوں سی تنی ہیں
قرابت دار وہ ، دربار کا ہے

کسی کے ذوق کی تسکین ٹھہرا
ہرن کا سر ، کہیں آ کر سجا ہے

دیا جھٹکا ذرا سا زلزلے نے
مکاں لیکن ابھی تک ، ڈولتا ہے

لگے سن کر سخن چاہت کا ماجد
کہیں تنّور میں ، چھینٹا پڑا ہے

Related posts

Leave a Comment